Sunday, July 27, 2008

یہ کسے جوابدہ ہیں؟

یہ کسے جوابدہ ہیں؟


اسلام آباد میں چھبیس جولائی کی شام ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا کہ پاکستان کی دو اہم خفیہ ایجنسیاں آئی ایس آئی اور انٹیلی جینس بیورو وزارتِ داخلہ کے تحت کام کریں گی۔ حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری نے اسے ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا۔
لیکن صرف پانچ گھنٹے بعد ایک اور نوٹیفکیشن آ گیا جس میں وضاحت کی گئی کہ پہلا نوٹیفکیشن غلط فہمی میں جاری ہوگیا۔ آئی ایس آئی بدستور وزارتِ دفاع کا حصہ رہے گی اور وزیرِ اعظم کو جوابدہ ہوگی۔



اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آئی ایس آئی کس کے ماتحت ہے یا ہونا چاہیئے۔اگر یہ ادارہ سول ایوی ایشن اتھارٹی اور محمکۂ موسمیات کی طرح وزارتِ دفاع کا کوئی ذیلی ادارہ ہے تو پھر دو برس قبل سیکرٹری دفاع کو سندھ ہائی کورٹ میں حبسِ بے جا کے ایک مقدمے کے دوران عدالت کے روبرو یہ کیوں کہنا پڑا کہ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جینس پر وزارتِ دفاع کا محض انتظامی کنٹرول ہے، آپریشنل کنٹرول نہیں ہے۔ لہذا ان ایجنسیوں سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے ضمن میں وزارتِ دفاع عدالتی احکامات کی تعمیل نہیں کروا سکتی۔



اوراگر آئی ایس آئی وزیرِ اعظم کو جوابدہ ہے تو پھر انیس سو اٹھاسی میں آئی ایس آئی کے زیرِ انتظام اوجڑی کیمپ میں گولہ بارود اور میزائیلوں کا ذخیرہ اڑنے کی تحقیقاتی رپورٹ آنے سے پہلے وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کی حکومت کیسے اڑ گئی۔
مسئلہ یہ نہیں کہ انٹیلی جینس ایجنسیوں کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔س وال صرف یہ ہے کہ کیا اداروں کو واضح مقاصد اور ڈسپلن کی حدود میں رہنا چاہئیے یا مبینہ فری میسنری طرز کی خفیہ سوسائٹیوں کی طرح محض خود کو جوابدہ ہونا چاہیئے۔

ایسا کیوں ہوا کہ انیس سو اٹھاسی میں اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل ، مہران بینک اسکینڈل، ایک منتخب حکومت گرانے کے لئے آپریشن مڈ نائٹ جیکال اور سن دوہزار دو میں آئی ایس آئی کی بلاواسطہ مدد سے تشکیل پانے والی مسلم لیگ ق جیسے سکینڈلز کے ذمہ داروں کے اعترافات کے باوجود کوئی وزیرِ اعظم ہاتھ نہ ڈال پایا۔



اگر یہ ادارے عملاً وزیرِ اعظم کو جوابدہ تھے تو بے نظیر بھٹو کی وزارتِ عظمی کے دوران ایجنسیوں کے سیاسی کردار کو محدود کرنے کی سفارشات پر مبنی ذوالفقار کمیشن کی رپورٹ کہاں چلی گئی۔ بے نظیر بھٹو تواتر کے ساتھ کیوں کہتی رہیں کہ انکی دونوں حکومتوں کو ایجنسیوں کی مدد سے گرایا گیا۔



بارہ برس سے سپریم کورٹ کی کسی الماری میں بند ایئرمارشل اصغر خان کی اس درخواست کا کیا بنا جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ایجنسیوں کی اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت کو کالعدم قرار دیا جائے۔اور خود سپریم کورٹ کو یہ حکم جاری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ عدالتی کمروں اور ججوں کی رہائش گاہوں کو خفیہ آلات سے پاک کیا جائے۔ کیا یہ آلات لگانے کا حکم بھی کسی وزیرِ اعظم نے دیا تھا؟



تو کیا اسرائیلی وزیرِ اعظم کو جوابدہ موساد اور شن بیت، برطانوی وزیرِ اعظم کے ماتحت ایم آئی فائیو اور ایم آئی سکس، بھارتی حکومت کے ماتحت ریسرچ اینڈ انالسز ونگ، امریکی صدر کے تحت سی آئی اے اور ایف بی آئی جیسے ادارے بھی اتنی ہی آزادی سے لطف اندوز ہوتے ہیں جتنی آزادی سے انکے پاکستان ہم پلہ ادارے کام کررہے ہیں۔



مسئلہ یہ نہیں کہ انٹیلی جینس ایجنسیوں کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔س وال صرف یہ ہے کہ کیا اداروں کو واضح مقاصد اور ڈسپلن کی حدود میں رہنا چاہئیے یا مبینہ فری میسنری طرز کی خفیہ سوسائٹیوں کی طرح محض خود کو جوابدہ ہونا چاہیئے۔
اس سے زیادہ خطرناک بات اور کیا ہوگی کہ جو ادارے ملک کی داخلی و خارجی سلامتی کے نام پر کام کر رہے ہوں انکے بارے میں پارلیمنٹ تو رہی ایک طرف۔ خود وزیرِ اعظم کے دفتر یا وزارتِ دفاع و داخلہ کو بھی پوری طرح سے علم نہ ہوکہ ان اداروں کا آپریشنل کنٹرول کس کے پاس ہے۔اس کنفیوژن میں ایسے لوگوں پر کون ہاتھ ڈال سکتا ہے جو ادارے کے اندر ادارہ بن کر سرکاری کے بجائے انفرادی ایجنڈے پر کام کر رہے ہوں۔



ہے کسی میں تپڑ جو ہاتھی سے گنا چھین سکے!

Thursday, July 24, 2008

بش، اوبامہ چچا بھتیجا!



بش، اوبامہ چچا بھتیجا!


اوبامہ افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں
بہت دن ہوئے ایک لطیفہ مشہور ہوا تھا کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات امریکہ میں نہیں وانا اور وزیرستان میں لڑے جارہے ہیں۔
اب جبکہ جارج بش کی صدارت اور شاید ریپبلکن پارٹی کے اقتدار کا سورج غروب ہونے میں بمشکل چھ ماہ باقی رہ گئے ہیں تو یہ بات مذاق نہیں حقیقت کے قریب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔


گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد دہشتگردی کیخلاف امریکہ کی عالمی جنگ کو چھ سال گزرنے کے باوجود اب تک القاعدہ کے ختم ہوجانے کے آثار نہیں۔ بلکہ انکی پھر سے پاکستان کے قبائلی یا بندوبستی علاقوں میں مبینہ منظم موجودگی کی رپورٹیں، اور اسامہ بن لادن سمیت صف اول کی قیادت کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے میں بش انتظامیہ کی ناکامی کی زبردست جھنجھلاہٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور سرحد پار پاکستانی و افغان طالبان کی کارروائیوں کے پس منظر میں اگر دنیا کے نقشے کو امریکہ سے دیکھا جائے تو پاکستان پر سرخ پینسل سے ایک دائرہ سا کھنچا نظر آتا ہے-
ہرے رنگ سے بچو
براک اوبامہ نے اپنے وفد کو ہدایات جاری کیں کہ وہ سبز رنگ کے کپڑوں سے احتمال برتیں کیونکہ، بقول راوی، یہ رنگ مسلمانوں کا ہے

ایک امریکی صحافی
اب تو اس لطیفے پر بھی ہنسی نہیں آتی کہ قبائلیوں کیلیے دو ارب ڈالرز میں ایک عرب کا سودا مہنگا نہیں-
سچ تو یہ ہے کہ صدر جارج بش یا انکی ریپبلکن پارٹی انکا عہد صدارت ختم ہونے سے قبل ہی اسامہ بن لادن اور ان کے صف اول کے ساتھیوں کو زندہ یا مردہ پکڑ کر جاتے جاتے اپنا ہاتھ دکھانا چاہتے ہیں، پھر وہ پاکستان کے استحکام کی قیمت پر ہو کہ کسی اور قیمت پر۔

اور یہی پروگرام ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار براک حسین اوبامہ اور انکی پارٹی کا لگتا ہے۔ براک اوبامہ نے اسی ہفتے افغانستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستان میں القاعدہ کے روپوش لیڈروں کی موجودگی کی پکی شہادت پر پاکستان پر حملہ کردینے کا عزم پھر سے دہرایا اور انہوں نے پاکستان سے یہ بھی کہا کہ وہ قبائلی علاقوں سے طالبان کے تربیتی کیمپ ختم کردے۔
بقول ایک صحافی اردن جاتے ہوئے براک اوبامہ نے اپنے وفد کو ہدایات جاری کیں کہ وہ سبز رنگ کے کپڑوں سے احتمال برتیں کیونکہ، بقول راوی، یہ رنگ مسلمانوں کا ہے! (زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلماں ہوں میں!)
اس حالیہ کارٹون پر کافی تنازعہ کھڑا ہوا
بقول امریکی صحافی افغان طالبان اور پاکستانی طالبان میں کوئی فرق نہیں۔ اگر افغان طالبان ’بڑی ٹی‘ سے لکھے جاتے ہیں تو پاکستانی طالبان میں پہلا انگریزی حرف تہجی چھوٹی ’ٹی‘ بنتا ہے۔

میں سوچتا ہوں کہ اگر تیس سمتبر جیسا سانحہ نہ ہوا ہوتا تو صدر بش اور جنرل مشرف کیا کررہے ہوتے۔ ایک دفعہ پھر بش مشرف دوستی کی قیمت پر پاکستان امریکہ تعلقات اور مفادات دائو پر لگے ہوئے ہیں۔
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی امریکی انتظامیہ اور کیپیٹل ہل کو اپنی صفائی پیش کرنے آئے تھے اور اب پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پچہتر اراکین پر مشتمل اپنے ’شاہی یا ریجمینٹل وفد‘ کے ساتھ آنے کو ہیں۔
’ہم تو ہمیشہ ہی تعاون کرتے رہے ہیں اور یہی عرض پھر دہرائيں گے۔‘ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستانی وزیر خارجہ کے دورے کے موقع پر پاکستان کے ایک سینئر سفارتکار ایک سینئر پاکستانی صحافی سے کہہ رہے تھے، ایک ایسے سینئر سفارتکار جو بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کے سخت مخالفوں میں سے تھے اور شاید اسی لیے اب بھی اپنے عہدے پر قائم ہیں! (کیونکہ کہتے ہیں کہ خارجہ پالیسی تو پاکستان کی وزارت خارجہ نہیں آبپارے والی لال بلڈنگ والی سرکار عالم آشکار آئي ایس آئي ہی بناتی ہے)

نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی کو ایک سرکاری استقبالیے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ایک پاکستانی پختون امریکی ڈاکٹر نے سوال کیا تھا کہ کیا وہ ہر سال وزیرستان میں اس لیے لاکھوں ڈالر سے آنکھوں کے کیمپ لگاتا تھا اور وہاں ہسپتال قائم کیے تھے کہ ان پر امریکہ بممباری کرے؟
رونا اس پر نہیں کہ وہ آئے تھے رونا ا سی پر ہے کہ ’وہ پھر آنے کا کہہ کر گۓ ہیں-‘
بقول ایک پختون تجزیہ نگار، ابتک القاعدہ کی جتنی بھی دو تین نمبر کی قیادت گرفتار ہوئی ہے وہ قبائلی علاقوں سے نہیں بلکہ پاکستان کے بڑے شہروں اور علاقوں سے ہوئے ہیں تو پھر ان شہروں اور علاقوں پر فوج کشی یا بمباری کیوں نہیں کی گئي؟
حال ہی میں اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے امریکی جاسوسی ایجنسی سی آئي آے اور پاکستانی جاسوسی ایجنسی آئي ایس آئی کے درمیاں تعلقات کی موجودہ نوعیت کو ’غیر آرام دہ شادی‘ سے تعبیر کیا تھا۔
بہت عرصہ قبل جب اسی شادی کا استعارہ امریکہ پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے ایک تقریب میں استعمال کیا گيا تھا تو وہاں موجود پختون سیاسی رہنما خان عبد الولی خان نے کہا تھا ’یہ معلوم نہیں ہوسکا اس شادی میں دلہن کون ہے؟‘
امریکہ میں صرف حکومت بدلے گی یا پالیسی بھی؟

اب ولی خان کی پارٹی انکے آبائي صوبہ سرحد یا پختونخواہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کیساتھ مخلوط حکومت میں ہے ، طالبان کا ’قبضہ‘ پشاور پر ہونے کی افواہ نما خبروں نے پورے خطے اور دنیا کے امن و سلامتی کے مستقل پر ایک بڑا سوالیہ نشان بنایا ہوا ہے اور پاکستان افغانستان سرحد پر امریکی ڈرونز (پائیلٹ بنا طیاروں) کی بغیر شور آوازيں بہت کچھ بتا رہی ہیں۔
ایک بڑے امریکی اخبار میں ’ کاؤنٹر ٹیررزم‘ ڈیسک بہت وقت پہلے بن چکی ہے جسے وہاں کام کرنے والے صحافی ’شیخ ڈیسک‘ کہتے ہیں-
پاکستانی فوج بینظیر بھٹوکے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے پر موجودہ حکومت سے سخت نالاں ہے۔ اگر پاکستانی فوج نے بینظیر بھٹو کو قتل نہیں کیا تو پھر ’ڈر کس کا ہے؟‘

ابھی تو اسلام آباد کے شاہراہ دستور پر دور دور تک نیلے ہیلمٹ والے سپاہی (اقوام متحدہ کی امن فوج) نہیں دکھائی دیتے- بینظیر بھٹو کو قتل کرنے میں مبینہ طور ملوث بیت اللہ محسود سمیت تمام پاکستانی یا چھوٹی ’ٹی‘ والے طالبان سے موجودہ مخلوط حکومت نے آپریشنز کے بجائے مذاکرات کیے ہیں- ان مذاکرات سے امریکی اور نیٹو والے سخت نالاں ہیں۔
بیت اللہ محسود صحافیوں کو مدعو کرکے انٹرویوز دیتے ہیں اور القاعدہ کا ابو یزید پاکسانی نجی چینل کو انٹرویو دیکر پاکستانی فوج سے القاعدہ کی لاتعلقی کا دعوا کرتا ہے۔

پاکستان میں سیاست اور صحافت کا عام طالب علم بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ فوج اور اسکی ایجینسیوں کی منشا اور مرضی کے بغیر ناممکن ہے۔
پاکستانی فوجی ایجینسوں سے طالبان یا القاعدہ کے تعلقات پر امریکیوں کو شک کیا پک ہو چکا ہے اور ایسے میں پاکستانی وزیر اعظم صدر بش اور امریکی قانونسازوں کو یہ سمجھانے آئيں گے کہ وہ مشرف سے ہاتھ ہٹا لیں!
مجھے ایک سادہ لوح شخص کی کرفیو کے وقفے میں بازار جاکر خریداہوا جوتا بدلنے والی خواہش یاد آتی ہے۔
مشرف سے تعلقات میں بش اور انکا کتا ’بڈی‘ ایک طرف اور باقی دنیا ایک طرف ہے- مشرف امریکی وار آن ٹیرر میں چاہے قصہ پارینہ ہی ہوں لیکن وہ اور جنرل کیانی یا ان کے زیر کمان پاکستانی فوج کا رشتہ اب بھی ’چچے بھتیجے کا‘لگتا ہے-
اور یہی حال یہاں پاکستان پر پالیسی میں بش اور براک اوبامہ کا ہے

Thursday, July 17, 2008

یادِ مسلسل کیسے ہو


یادِ مسلسل کیسے ہو


موجودہ حکومت کے وہ سارے اقدامات سر آنکھوں پر جن کے تحت محترمہ بے نظیر بھٹو کی یاد میں عارضی بلڈ بینک قائم کیے گئے۔ سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کی سفارش کی گئی۔ دھشت گردی کے شکار والدین کے بچوں کی تعلیم کے لئے بے نظیر ٹرسٹ کے قیام اور راولپنڈی کے جنرل ہسپتال، مری روڈ اور اسلام آباد ایرپورٹ کو بے نظیر بھٹو سے معنون کردیا گیا۔ لیکن کیا یہ کام یہیں ختم ہو گیا؟ زندہ قومیں اپنے ہیروز اور ہیروئنوں کے آدرش پورے کرنے کے لئے مسلسل کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہیں۔
مثلاً ذوالفقار علی بھٹو کی یاد میں چار اپریل ٹرسٹ کیوں نہیں بن سکتا جو ضمانت کے پیسوں سے لاچار جیل میں بند قیدیوں کی مالی معاونت کر ے۔
کس کو یاد ہے؟
کسی بھی شام راولپنڈی کے اس پارک میں چلے جائیے جہاں نئی نسل کا ایک جمِ غفیر برگر کھانے یا سینما سے لطف اندوز ہونے کے لئے موجود ہوتا ہے۔ان میں سے کتنوں کو یاد ہوگا کہ اسی جگہ ایک کال کوٹھڑی بھی ہوا کرتی تھی جس میں ذوالفقار علی بھٹو کو رکھا گیا اور پھر لٹکا دیا گیا

بے نظیر روشنی بیورو بھی تو بن سکتا ہے جس کا کام صرف یہ ہو کہ وہ غائب و لاپتہ افراد کو اندھیروں سے پھر روشنی میں لا سکے۔
ستائیس دسمبر ایجوکیشن فاؤنڈیشن بھی تو سامنے آ سکتی ہے جو دس ہزار روپے سے کم آمدنی والے گھرانوں کے بچوں کی معیاری تعلیم یقینی بنا سکے۔
قائدِ عوام ایمپلائمنٹ ایجنسی بھی تو وجود میں آسکتی ہے جو بے روزگاروں کا ملک گیر ریکارڈ مرتب کر کے ان کے اور نجی و سرکاری اداروں کے درمیان پل کا کام کرے۔
بے نظیر فوڈ پروگرام بھی تو شروع ہوسکتا ہے جس کے تحت ملک بھر میں حکمران اتحاد کے کارکن ایسے چھوٹے چھوٹے مراکز قائم کریں جہاں آٹے سمیت روزمرہ کی لازمی اشیاء براہ راست کھیت اور فیکٹری سے معمولی منافع پر فراہم کر کے کروڑوں ووٹروں کے گھر کا چولہا روشن رکھا جائے۔
شریف ہیلتھ ٹرسٹ بھی تو تشکیل پا سکتا ہے جو ایسے لوگوں کے علاج معالجے کا انتظام اپنے ذمے لے لے جن کے پاس کالا شربت خریدنے کی استطاعت بھی نہیں۔
ولی خان ٹرائبل ڈویلپمنٹ ایجنسی بھی تو بن سکتی ہے جو پسماندہ قبائیلی علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے ماسٹر پلان کو عملی جامہ پہنائے۔
اکیس جون سالویشن آرمی بھی تو وجود میں آسکتی ہے جو اندرونی بحرانوں اور فوج کشی کے نتیجے میں دربدر ہونے والے ہزاروں خاندانوں کی آبادکاری کا ذمہ اٹھا لے۔
مفتی محمود فیڈرل بورڈ بھی تو بن سکتا ہے جو فیڈریشن کے یونٹوں کے مابین وسائیل کی منصفانہ تقسیم اور زیادہ سے زیادہ اختیارات کی منتقلی پر جو بھی فیصلے کرے ان پر عمل درآمد سب پر لازم ہو۔
دخترِ مشرق انرجی کمیشن بھی تو قائم ہوسکتا ہے جس کا ٹارگٹ یہ ہو کہ موجودہ حکومت کی آئینی مدت مکمل ہونے تک پاکستان میں ہر صورت بجلی کی موجودہ پیداوار دوگنی کی جائے گی ۔
یہ ان بیسیوں تصورات میں سے چند ہیں جن کو عملی جامہ پہنا کر موجودہ اور آئندہ نسلوں کو اپنے اکابرین کی یاد سے مالامال رکھا جاسکتا ہے۔
وقتی جوش کے تحت جو فلاحی مظاہرے ہوتے ہیں ان کی یادیں بھی وقتی ہوتی ہیں۔اور بعض اوقات تو وقتی بھی نہیں رہتیں۔ یقین نہ آئے تو کسی بھی شام راولپنڈی کے اس پارک میں چلے جائیے جہاں نئی نسل کا ایک جمِ غفیر برگر کھانے یا سینما سے لطف اندوز ہونے کے لئے موجود ہوتا ہے۔ان میں سے کتنوں کو یاد ہوگا کہ اسی جگہ ایک کال کوٹھڑی بھی ہوا کرتی تھی جس میں ذوالفقار علی بھٹو کو رکھا گیا اور پھر لٹکا دیا گیا۔

Tuesday, July 15, 2008

میڈیا کا بندر


میڈیا کا بندر!


خبروں کی تلاش میں نیوز چینلسنا تو یہ تھا کہ مقابلے اور مسابقت کا رجھان مصنوعات کے معیار کو بہتر سے بہتر بناتا ہے ۔اگر یہ مفروضہ درست ہے تو اس سے پاکستانی میڈیا کی صحت کیوں بہتر نہیں ہورہی۔مثلاً پرنٹ میڈیا کو ہی لے لیں۔ایک زمانہ تھا کہ اخباری دفاتر میں اشتہار، خبر، تبصرے اور خواہش کو علیحدہ علیحدہ خانوں میں رکھا جاتا تھا۔آج خبر اسے کہتے ہیں جو نامہ نگاری، کالم نویسی اور ذاتی تمناؤں کا ملیدہ ہو اور اشتہاروں سے بچ جانے والی جگہ پر شائع ہونے میں کامیاب ہوجائے۔ پہلے قاری صرف اخبار خریدتا تھا۔آج اسے اخبار کے ساتھ ایک چھلنی بھی خریدنی پڑتی ہے تاکہ وہ خبری کالم میں موجود ملیدے میں سے حقیقت ، فسانہ اور تمنا الگ الگ کرسکے۔پہلے قاری اس امید پر بھی اخبار پڑھتا تھا کہ اسے نئے الفاظ اور زبان برتنے کا شعور ملے گا۔آج قاری کو اخبار پڑھتے ہوئے یہ خیال بھی رکھنا پڑتا ہے کہ اسے جو تھوڑی بہت زبان آتی ہے کہیں اس پر صحافتی لفظیات کے چھینٹے نہ پڑ جائیں۔

اب سے پانچ ، سات برس پہلے جب نجی چینلوں کو لہلہانے کی اجازت ملی تو عام ناظر کو گمان ہوا کہ کیمرے کی موجودگی میں رائی کا پہاڑ بنانا اور دو اور دو پانچ کرنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجائے گا

یہ مسائل اس لیے پیدا ہوئے ہیں کہ عرصہ ہوا زبان و بیان، ادارتی پالیسی، غیر جانبداری اور خبر نگاری کی بنیادی تربیت کو اخباری دفاتر سے کان پکڑ کر نکال دیا گیا۔صلاحیت اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل مالک اور شعبہ اشتہارات کی دو پاٹی چکی میں سرمہ ہوچکے۔ چہار طرفہ دباؤ ، معاشی جبر اور سیاسی ، سماجی اور ذاتی مصلحتوں نے صحافت کو پیشہ نہیں رہنے دیا بلکہ صحافی کو پیشہ کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ اب اس اخباری معیار کو آپ دس سے ضرب دے کر الیکٹرونک میڈیا پر لاگو کیجیے۔اب سے پانچ ، سات برس پہلے جب نجی چینلوں کو لہلہانے کی اجازت ملی تو عام ناظر کو گمان ہوا کہ کیمرے کی موجودگی میں رائی کا پہاڑ بنانا اور دو اور دو پانچ کرنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجائے گا۔کیمرہ جب دودھ اور پانی الگ کرے گا تو سب اسے سنجیدگی سے لیں گے اور یوں سماج کی مجموعی سودے بازی کی قوت میں بھی نہ صرف اضافہ ہوگا بلکہ تحقیقاتی رپورٹنگ کو نئی زندگی ملے گی اور ناظر کی معلومات کے ساتھ اسکے علم میں بھی صوتی و بصری اضافہ ہوگا۔ لیکن مقابلے اور مسابقت کے اژدھے نے یہ سب امیدیں نگل لیں۔کوئی بھی ڈرامہ ، ٹاک شو ، خبرنامہ یا دستاویزی پروگرام ایک گھنٹے میں مکمل طور پر دیکھنے کے لیے ناظر کو پینتیس منٹ کے اشتہارات بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ٹھوس مواد کی قلت کے سبب مباحثوں اور ٹاک شوز کی اس قدر بھرمار ہوگئی ہے کہ گفتگو باز اسی طرح کم پڑ گئے ہے جیسے بقرعید پر قصائی قلیل ہو جاتے ہیں۔

حالت یہ ہوگئی ہے کہ اگر ایک چینل کی گاڑی ڈیزل بھروانے بھی جارہی ہو تو دیگر چینلوں کی گاڑیاں احتیاطاً اسکے پیچھے لگ لیتی ہیں

پٹی جرنلزم اور فی البدیہہ بیپر جرنلزم کے کوڑوں نے معیاری رپورٹنگ کو نیلا کردیا ہے۔اب یہ خبر معمول کی نشریات روک کر بریکنگ نیوز کے نام پر سنائی جاتی ہے کہ نیو کراچی کے ایک مکان میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگ گئی۔اور یہ خبر ایکسکلوسیو نیوز ہوگئی ہے کہ معزول چیف جسٹس پنڈال میں گیٹ نمبر دو سے داخل ہوں گے۔ وہ آدمی جس کے بیان کواخبار میں صفحہ چھ پر سنگل کالم میں لگانے سے پہلے ڈیسک ایڈیٹر بھی سات بار سوچتا تھا ۔اب اسے صرف ایک چینل کو اطلاع دینی ہوتی ہے جس کے بعد باقی چینل اسکی پریس کانفرنس کو لائیو دکھانے کے لیے اسی طرح لپکتے ہیں جیسے سبز مکھی آم کے چھلکے پر۔حالت یہ ہوگئی ہے کہ اگر ایک چینل کی گاڑی ڈیزل بھروانے بھی جارہی ہو تو دیگر چینلوں کی گاڑیاں احتیاطاً اسکے پیچھے لگ لیتی ہیں۔ اپنا دماغ استعمال کئے بغیر ہر مینگنی کو پیڑہ سمجھ کر لپکنے کی اس بھیڑ چال نے اتنی گنجائش بھی نہیں چھوڑی کہ صحافت کے پیشہ ورانہ بنیادی اصولوں کو خاطر میں لانے کے بارے میں کوئی سوچ بھی سکے۔چنانچہ اب ہر اسلم ، حمیدے، بھورل اور ظہورے کو یہ راز معلوم ہوگیا ہے کہ ڈگڈگی سنتے ہی میڈیا کا بندر ناچنا شروع کردیتا ہے۔جنٹلمین بن کر دکھاتا ہے۔ڈنڈ بیٹھکیں نکالتا ہے اور تماشائیوں کے سامنے پاپی پیٹ نکال کر چکر لگاتا ہے تاکہ حسب ِ توفیق کوئی بھی خبر یا تبصرہ یا ساؤنڈ بائٹ یا افواہ کشکول میں ڈال دی جائے۔تو یہ ہے میڈیا اور اس کی آزادی کا قصہ !

Monday, July 14, 2008

آگ لگے سورج کو

دنیا میں اس وقت دو سو سے زائد ممالک ہیں۔ ان میں سے ایک ملک ایسا بھی ہے جو روس سے کم از کم دس گنا
چھوٹا ہے لیکن جس کا نہری نظام روس کے نہری نظام سے تین گنا بڑا ہے۔

یہ ملک دنیا میں مٹر کی پیداوار کے لحاظ سے دوسرے، خوبانی، کپاس اور گنے کی پیداوار کے لحاظ سے چوتھے، پیاز اور دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پانچویں، کھجور کی پیداوار کے لحاظ سے چھٹے، آم کی پیداوار کے لحاظ سے ساتویں، چاول کی پیداوار کے لحاظ سے آٹھویں، گندم کی پیداوار کے لحاظ سے نویں اور مالٹے اور کینو کی پیداوار کے لحاظ سے دسویں نمبر پر ہے۔ یہ ملک مجموعی زرعی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں پچیسویں نمبر پر ہے۔

اسکی صرف گندم کی پیداوار پورے براعظم افریقہ کی پیداوار سے زائد اور برِ اعظم جنوبی امریکہ کی پیداوار کے برابر ہے۔ یہ ملک دنیا میں صنعتی پیداوار کے لحاظ سے پچپنویں نمبر پر ہے۔ کوئلے کے زخائر کے اعتبار سے چوتھے اور تانبے کے زخائر کے اعتبار سے ساتویں نمبر پر ہے۔ سی این جی کے استعمال میں اول نمبر پر ہے۔ اسکے گیس کے زخائر ایشیا میں چھٹے نمبر پر ہیں اور یہ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہے۔

پھر بھی اس ملک کی تہتر فیصد آبادی کی آمدنی دو ڈالر روزانہ سے کم ہے۔ دن کا آدھا وقت یہ ملک بجلی سے محروم رہتا ہے۔ آٹے کے لیے قطاریں لگتی ہیں اور خودکشی کی وجوہات میں اب غربت اور بھوک بھی شامل ہوگئی ہے۔


آگ لگے ایسے سورج کو
جس سے میرا گھر جلے